آتھنٹیکیٹر ایپس کوڈ کیسے بناتی ہیں
آتھنٹیکیٹر ایپ وقت پر مبنی ایک بار استعمال ہونے والے پاس ورڈ بناتی ہے، اور اس طریقے کو عموماً TOTP کہا جاتا ہے۔ جب آپ ایپ کے ذریعے ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن آن کرتے ہیں تو سروس ایک QR کوڈ دکھاتی ہے۔ اس کوڈ میں ایک خفیہ کلید چھپی ہوتی ہے، اور اسے اسکین کرنے سے اس کلید کی ایک کاپی آپ کی ایپ میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد سروس اور آپ کے فون کے پاس ایک ہی راز ہوتا ہے، اور اسے دوبارہ کبھی نیٹ ورک کے ذریعے بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
کوڈ بنانے کے لیے ایپ اس راز کو موجودہ وقت کے ساتھ ملاتی ہے، جسے ایک مختصر وقفے کے حساب سے گنا جاتا ہے جو عموماً 30 سیکنڈ کا ہوتا ہے، اور نتیجے کو ایک معیاری کرپٹوگرافک فنکشن سے گزارتی ہے۔ پھر وہ اس آؤٹ پٹ کو کاٹ کر ایک مختصر عدد بنا دیتی ہے، جو عموماً چھ ہندسوں کا ہوتا ہے۔ سرور اپنی طرف یہی حساب کرتا ہے اور دونوں نتائج کا موازنہ کرتا ہے۔ چونکہ دونوں طرف صرف راز اور گھڑی کی ضرورت ہے، اس لیے ایپ موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کے بغیر بھی کام کرتی ہے۔
یہی بناوٹ سب سے عام مسئلے کی وجہ بھی سمجھاتی ہے: کوڈ درست ٹائپ کرنے کے باوجود رد ہو جانا۔ اگر فون کی گھڑی آگے پیچھے ہو جائے تو وہ غلط وقت کے وقفے کے کوڈ بناتا ہے۔ تاریخ اور وقت کو خودکار اپ ڈیٹ پر رکھنے سے عموماً یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے، اور کچھ ایپس میں وقت درست کرنے کا الگ آپشن بھی ہوتا ہے۔
آتھنٹیکیٹر ایپ کا انتخاب
کوئی بھی ایپ جو معیاری TOTP طریقہ سپورٹ کرتی ہو، زیادہ تر سروسز کے ساتھ چل جاتی ہے، اس لیے اصل انتخاب اس بات پر ہے کہ ایپ آپ کے رازوں کو کیسے سنبھالتی ہے۔ بڑی پلیٹ فارم کمپنیاں اپنی ایپس پیش کرتی ہیں، جن میں Google Authenticator اور Microsoft Authenticator شامل ہیں، اور کئی پاس ورڈ مینیجرز بھی TOTP کوڈز محفوظ کر سکتے ہیں۔
ایسی ایپ دیکھیں جس میں کوڈز کا بیک اپ لینے یا ایکسپورٹ کرنے کا طریقہ موجود ہو، کیونکہ اگر ایپ کوڈز صرف ایک فون پر رکھے تو فون گم ہوتے ہی آپ اپنے اکاؤنٹس سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اگر ایپ کسی کلاؤڈ اکاؤنٹ سے سنک ہوتی ہے تو یقینی بنائیں کہ وہ اکاؤنٹ خود اچھی طرح محفوظ ہو، اور ان ایپس کو ترجیح دیں جو بیک اپ کو انکرپٹ کرتی ہیں۔ فنگر پرنٹ، چہرے یا PIN والا ایپ لاک اس صورت میں کام آتا ہے جب کوئی آپ کا کھلا ہوا فون اٹھا لے۔
کچھ آتھنٹیکیٹر ایپس اپنی ہی کمپنی کے اکاؤنٹس کے لیے پُش منظوری بھی دیتی ہیں، جس میں کوڈ ٹائپ کرنے کے بجائے آپ ایک ٹیپ سے سائن اِن کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ آسان ہے، مگر صرف اسی کمپنی کے ساتھ چلتا ہے۔ باقی ہر سروس کے لیے ایپ ایک عام کوڈ جنریٹر کی طرح کام کرتی ہے۔
آتھنٹیکیٹر میں اکاؤنٹ شامل کرنا
اکاؤنٹ کی سیکیورٹی سیٹنگز میں آتھنٹیکیٹر ایپ سیٹ اپ کرنے کا آپشن چنیں۔ ایپ سے QR کوڈ اسکین کریں، یا اسکین نہ ہو سکے تو سیٹ اپ کلید ہاتھ سے ٹائپ کر دیں۔ پھر سروس یہ ثابت کرنے کے لیے موجودہ کوڈ مانگتی ہے کہ سیٹ اپ کامیاب رہا۔ یہ مرحلہ نہ چھوڑیں، اور کوڈ قبول ہونے تک صفحہ بند نہ کریں۔
اگر ایپ اجازت دے تو ہر اندراج کو واضح نام دیں، خاص طور پر جب ایک ہی سروس پر آپ کے کئی اکاؤنٹس ہوں۔ جو اندراج صرف برانڈ کا نام دکھائے اسے کسی دوسرے سے گڈمڈ کرنا آسان ہے، اور غلط اندراج ڈیلیٹ ہو جانے سے آپ اکاؤنٹ سے باہر ہو سکتے ہیں۔
اسی وقت سروس کی طرف سے دیے گئے بیک اپ یا ریکوری کوڈز بھی محفوظ کر لیں۔ اگر آتھنٹیکیٹر والا فون کوڈز کا بیک اپ بننے سے پہلے ہی گم ہو جائے تو اکاؤنٹ میں واپس جانے کا یہی سب سے آسان راستہ ہے۔
کوڈز کو نئے فون پر منتقل کرنا
سب سے محفوظ اصول سادہ ہے: نیا فون اس وقت سیٹ کریں جب پرانا ابھی چل رہا ہو۔ جب تک ہر کوڈ منتقل اور ٹیسٹ نہ ہو جائے، پرانی ڈیوائس نہ صاف کریں، نہ بیچیں اور نہ ہی کسی نئے فون کے بدلے دیں۔
کئی آتھنٹیکیٹر ایپس میں ٹرانسفر یا ایکسپورٹ کا فیچر ہوتا ہے جو پرانے فون پر ایک یا زیادہ QR کوڈز دکھاتا ہے، جنہیں نیا فون اسکین کر لیتا ہے۔ کچھ دوسری ایپس نئی ڈیوائس پر سائن اِن کرتے ہی انکرپٹڈ کلاؤڈ بیک اپ سے آپ کے اندراجات بحال کر دیتی ہیں۔ منتقلی کے بعد نئے کوڈز سے چند اکاؤنٹس میں سائن اِن کر کے تصدیق کریں کہ کوڈز میچ کر رہے ہیں۔
اگر آپ کی ایپ میں ٹرانسفر کا آپشن نہیں ہے تو اکاؤنٹس ایک ایک کر کے منتقل کریں۔ ہر سروس میں سائن اِن کریں، اس کی ٹو فیکٹر سیٹنگز کھولیں، آتھنٹیکیٹر شامل کرنے یا بدلنے کا آپشن چنیں، نئے فون سے نیا QR کوڈ اسکین کریں اور کوڈ کی تصدیق کریں۔ کئی سروسز پر راز بدلتے ہی پرانا اندراج کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، اس لیے الجھن سے بچنے کے لیے بعد میں اسے ڈیلیٹ کر دیں۔ منتقلی کے دوران بیک اپ کوڈز پاس رکھیں، کہیں آدھے راستے میں کچھ گڑبڑ نہ ہو جائے۔
ایپ پاس ورڈ کیا ہوتے ہیں
ایپ پاس ورڈ ایک لمبا اور بے ترتیب طور پر بنایا گیا پاس ورڈ ہے جو کسی ایک مخصوص ایپ یا ڈیوائس کو ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن سے گزرے بغیر آپ کے اکاؤنٹ میں سائن اِن کرنے دیتا ہے۔ یہ پرانے سافٹ ویئر کے لیے بنایا گیا ہے جو صرف یوزر نیم اور پاس ورڈ سمجھتا ہے اور نہ کوڈ کا پرامپٹ دکھا سکتا ہے نہ سائن اِن کا صفحہ کھول سکتا ہے۔
گوگل، مائیکروسافٹ اور یاہو کے اکاؤنٹس، اور کچھ دوسرے بھی، اکاؤنٹ کی سیکیورٹی سیٹنگز سے ایپ پاس ورڈ بنانے دیتے ہیں، زیادہ تر صورتوں میں صرف اس وقت جب ٹو اسٹیپ ویریفکیشن آن ہو۔ کچھ اکاؤنٹس، جیسے بعض دفتری یا تعلیمی اکاؤنٹس یا انتہائی سخت سیکیورٹی پروگراموں میں شامل اکاؤنٹس، شاید یہ سہولت دیتے ہی نہ ہوں۔ ہر ایپ پاس ورڈ عموماً صرف ایک بار، بنتے وقت، نظر آتا ہے، اس لیے اسے اسی وقت ایپ میں پیسٹ کر دیں۔
چونکہ ایپ پاس ورڈ کے ساتھ دوسرا فیکٹر نہیں مانگا جاتا، اس لیے اسے اس میل باکس کا مکمل پاس ورڈ سمجھیں جس کی وہ حفاظت کرتا ہے۔ ہر ایپ یا ڈیوائس کے لیے الگ ایپ پاس ورڈ بنائیں، سروس اجازت دے تو اسے وضاحتی نام دیں، اور اسے کبھی کسی اور جگہ دوبارہ استعمال نہ کریں۔
آپ کے میل کلائنٹ کو ایپ پاس ورڈ کب چاہیے
جدید ای میل ایپس بڑے پرووائیڈرز کے اکاؤنٹس میں براؤزر جیسی سائن اِن ونڈو کے ذریعے سائن اِن کرتی ہیں جو ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن خود سنبھال لیتی ہے، اس لیے انہیں ایپ پاس ورڈ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ عموماً اس کی ضرورت صرف تب ہوتی ہے جب کوئی پروگرام یا ڈیوائس سادہ IMAP، POP یا SMTP سیٹنگز اور ایک عام پاس ورڈ فیلڈ کے ذریعے کنیکٹ ہو: پرانے ڈیسک ٹاپ میل کلائنٹس، کچھ موبائل میل ایپس، ای میل بھیجنے والے اسکینر اور پرنٹر، بیک اپ ٹولز، اسکرپٹس اور پرانی اسمارٹ ڈیوائسز۔
آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے عام سائن اِن آزمائیں۔ اگر ایپ پرووائیڈر کا اپنا سائن اِن صفحہ کھول دے تو وہی استعمال کریں۔ اگر وہ صرف سرور سیٹنگز دکھائے اور ٹو اسٹیپ ویریفکیشن آن کرنے کے بعد آپ کا درست پاس ورڈ بار بار رد کرتی رہے تو یہی اشارہ ہے کہ ایپ پاس ورڈ بنائیں، اسے اپنے عام پاس ورڈ کی جگہ لکھیں اور باقی سیٹنگز جوں کی توں رہنے دیں۔
پرووائیڈرز تھرڈ پارٹی ایپس کے لیے سادہ پاس ورڈ والے سائن اِن سے لوگوں کو آہستہ آہستہ ہٹا رہے ہیں، اس لیے جو ایپ پاس ورڈ آج چل رہا ہے وہ آگے چل کر شاید سپورٹ نہ ہو۔ جب کوئی ایسا پروگرام جس پر آپ کا کام چلتا ہے کنیکٹ ہونا بند کر دے تو ایک اور ایپ پاس ورڈ بنانے سے پہلے دیکھ لیں کہ کیا اس کا نیا ورژن جدید سائن اِن طریقہ سپورٹ کرتا ہے۔
کوڈز اور ایپ پاس ورڈز کو قابو میں رکھنا
وقتاً فوقتاً اکاؤنٹ کی سیکیورٹی سیٹنگز میں اپنے ایپ پاس ورڈز کا جائزہ لیں اور جو استعمال میں نہیں انہیں منسوخ کر دیں، خاص طور پر ان ڈیوائسز کے جو آپ بیچ چکے ہیں یا ان پروگراموں کے جو ان انسٹال کر چکے ہیں۔ کچھ پرووائیڈرز ہر ایپ پاس ورڈ الگ دکھاتے ہیں، جبکہ کچھ صرف سب کو ایک ساتھ ہٹانے دیتے ہیں۔ کچھ سروسز پر مرکزی پاس ورڈ بدلنے سے موجودہ ایپ پاس ورڈز بھی منسوخ ہو جاتے ہیں، اس لیے بعد میں نئے بنانے کے لیے تیار رہیں۔
اگر آپ کو کوئی ای میل اکاؤنٹ کسی اور سے ملا ہے، مثلاً rStock جیسی ڈیجیٹل اشیا کی مارکیٹ پلیس کے ذریعے، تو ہر وہ ایپ پاس ورڈ اور آتھنٹیکیٹر اندراج ہٹا دیں جو آپ نے خود نہیں بنایا، پھر اپنا آتھنٹیکیٹر سیٹ کریں اور نئے بیک اپ کوڈز بنائیں۔ rStock پر ڈیلیور شدہ مواد آپ کے آرڈر کے صفحے پر آرڈر سے منسلک ڈیلیوری ریکارڈ کی صورت میں نظر آتا ہے، اس لیے تبدیلیاں شروع کرنے سے پہلے تفصیلات اپنے پاس ورڈ مینیجر میں کاپی کر لیں۔ جو بھی اکاؤنٹ حاصل کریں، اسے پرووائیڈر کی شرائطِ استعمال کے مطابق استعمال کریں۔
آخر میں، جہاں تک ممکن ہو اپنی آتھنٹیکیٹر ایپ، بیک اپ کوڈز اور ایپ پاس ورڈز کو ایک دوسرے سے الگ رکھیں۔ ایک چوری شدہ فون یا لیک ہونے والا ایک نوٹ کبھی اتنا کافی نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کے ہاتھ آپ کے میل کی ساری چابیاں لگ جائیں۔