مواد پر جائیں
تمام گائیڈز

اکاؤنٹ سیکیورٹی

میسنجرز اور سوشل میڈیا میں اپنا ڈیٹا کیسے محفوظ رکھیں

ٹیلیگرام، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک میں اپنا ڈیٹا محفوظ رکھیں: ٹو اسٹیپ ویریفکیشن، سیشنز، لنکڈ ڈیوائسز، پرائیویسی سیٹنگز، فشنگ اور محفوظ بیک اپ۔

· آخری اپ ڈیٹ:

فہرستِ مضامین

یہ اکاؤنٹس خاص توجہ کیوں مانگتے ہیں

میسنجرز اور سوشل نیٹ ورکس میں آپ کے بارے میں تقریباً کسی بھی دوسری ایپ سے زیادہ معلومات ہوتی ہیں: برسوں کی نجی گفتگو، تصاویر، وائس نوٹس، آپ کی کانٹیکٹ لسٹ اور یہ ریکارڈ کہ آپ کس سے کب بات کرتے ہیں۔ یہی اکاؤنٹس آپ کی شناخت بھی ہیں۔ جب کوئی میسنجر یا سوشل پروفائل پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ شاذ و نادر ہی صرف پرانی چیٹس پڑھنے پر اکتفا کرتا ہے۔ وہ آپ کے نام سے دوستوں اور رشتہ داروں کو میسج کرتا ہے، پیسے یا لاگ اِن کوڈز مانگتا ہے، اور آپ کی نیک نامی کے سہارے وہی فراڈ آگے پھیلاتا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ سب سے مؤثر حفاظتی انتظامات مفت ہیں اور ٹیلیگرام، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک میں پہلے سے موجود ہیں، اور زیادہ تر کو آن کرنے میں چند منٹ ہی لگتے ہیں۔ نیچے کے حصے ان سیٹنگز سے شروع ہوتے ہیں جو اکاؤنٹ پر قبضہ روکتی ہیں اور ان عادتوں پر ختم ہوتے ہیں جو آپ کی معلومات کو لیک ہونے سے بچاتی ہیں۔

ٹو اسٹیپ ویریفکیشن آن کریں اور لاگ اِن کوڈز کی حفاظت کریں

صرف پاس ورڈ یا ایک بار استعمال ہونے والے SMS کوڈ پر بھروسا کرنے کا مطلب ہے کہ ساری حفاظت ایک ہی کڑی پر ٹکی ہے، اس لیے جہاں ممکن ہو دوسرا تالا لگائیں۔ ٹیلیگرام میں اسے ٹو اسٹیپ ویریفکیشن یا کلاؤڈ پاس ورڈ کہا جاتا ہے، اور یہ Settings اور پھر Privacy and Security میں ملتا ہے۔ واٹس ایپ کی اپنی ٹو اسٹیپ ویریفکیشن ہے جس میں چھ ہندسوں کا PIN رکھا جاتا ہے، اور یہ Settings اور پھر Account میں ملتی ہے۔ انسٹاگرام اور فیس بک میں یہ میٹا کے Accounts Center میں Password and security کے تحت ہے، جہاں ٹیکسٹ میسج کے مقابلے میں آتھنٹیکیٹر ایپ زیادہ مضبوط انتخاب ہے۔

جہاں ایپ ریکوری ای میل کا آپشن دے وہاں ضرور شامل کریں، اور ایسا پتہ استعمال کریں جو آپ واقعی دیکھتے ہوں۔ پاس ورڈز اور بیک اپ کوڈز اسی فون کے کسی نوٹ میں نہیں بلکہ پاس ورڈ مینیجر میں رکھیں۔

اس اصول کا دوسرا حصہ رویے سے متعلق ہے: لاگ اِن کوڈ کبھی کسی کو نہ دیں۔ اصل سپورٹ ٹیمیں یہ کوڈ نہیں مانگتیں۔ ٹیلیگرام عموماً لاگ اِن کوڈز آپ کی دوسری ڈیوائسز پر اپنی آفیشل سروس چیٹ کے ذریعے بھیجتا ہے اور ساتھ ہی خبردار کرتا ہے کہ انہیں شیئر نہ کریں، اور واٹس ایپ کے رجسٹریشن کوڈز پر بھی یہی بات لاگو ہوتی ہے۔ اگر کوئی دوست یا رشتہ دار اچانک وہ کوڈ مانگے جو آپ کو ابھی ملا ہے، تو تقریباً ہمیشہ اس کا اکاؤنٹ پہلے ہی کسی اور کے قبضے میں جا چکا ہوتا ہے۔

فعال سیشنز اور لنکڈ ڈیوائسز چیک کریں

ہر وہ جگہ جہاں آپ لاگ اِن ہیں، آپ کے اکاؤنٹ کا ایک دروازہ ہے۔ ٹیلیگرام انہیں Settings اور پھر Devices میں دکھاتا ہے اور ایک سیشن یا باقی تمام سیشنز ایک ساتھ ختم کرنے دیتا ہے۔ یہ ایک مدت تک غیر فعال رہنے پر سیشنز خود بھی ختم کر سکتا ہے۔ واٹس ایپ میں فون پر Linked devices کھولیں تاکہ آپ کے اکاؤنٹ سے جڑا ہر کمپیوٹر اور براؤزر نظر آئے، اور جسے نہ پہچانیں اس سے لاگ آؤٹ کر دیں۔ انسٹاگرام اور فیس بک کے لیے Accounts Center دکھاتا ہے کہ آپ کہاں کہاں لاگ اِن ہیں اور پرانی ڈیوائسز ہٹانے دیتا ہے۔

کسی مشترکہ یا عوامی کمپیوٹر، جیسے انٹرنیٹ کیفے یا دفتر کے کمپیوٹر، پر لاگ اِن کرنے کے بعد، فون بدلنے کے بعد اور جب بھی کوئی غیر متوقع لاگ اِن الرٹ آئے، یہ فہرست دوبارہ دیکھ لیں۔ Accounts Center میں لاگ اِن الرٹس آن کرنے سے نئے سائن اِن کی خبر ساتھ ساتھ ملتی رہتی ہے۔

QR کوڈز کے معاملے میں خاص احتیاط کریں۔ ٹیلیگرام یا واٹس ایپ کے ڈیسک ٹاپ یا ویب ورژن کو جوڑنے کے لیے فون سے ایک کوڈ اسکین کیا جاتا ہے۔ کوئی اجنبی جو آپ کو کوڈ بھیج کر اسے اسکین کرنے کو کہے، کسی انعام، ووٹ یا گروپ کی دعوت کے بہانے، دراصل آپ سے اپنا کمپیوٹر آپ کے اکاؤنٹ سے جوڑنے کو کہہ رہا ہے۔ صرف وہی لاگ اِن QR کوڈ اسکین کریں جو آپ نے خود اپنی ڈیوائس پر کھولا ہو۔

پرائیویسی سیٹنگز سخت کریں

ڈیفالٹ سیٹنگز سہولت کے لیے بنائی جاتی ہیں، پرائیویسی کے لیے نہیں۔ ٹیلیگرام میں Privacy and Security کا پورا حصہ دیکھیں اور طے کریں کہ آپ کا فون نمبر کون دیکھ سکتا ہے، اس کے ذریعے آپ کو کون ڈھونڈ سکتا ہے، آپ کا last seen اور پروفائل تصاویر کون دیکھتا ہے، اور آپ کو گروپس اور چینلز میں کون شامل کر سکتا ہے۔ نمبر کو Nobody یا My Contacts پر رکھنے اور گروپ کی دعوتیں محدود کرنے سے اسپیم بھی کم ہوتا ہے اور اجنبیوں تک آپ کا نمبر بھی نہیں پہنچتا۔

واٹس ایپ میں بھی last seen اور آن لائن اسٹیٹس، پروفائل تصویر، About ٹیکسٹ، اسٹیٹس اپ ڈیٹس اور گروپ کی دعوتوں کے لیے ملتے جلتے کنٹرولز ہیں، اور ساتھ ہی انجان نمبروں کی کالز خاموش کرنے اور کالز کے دوران اپنا IP ایڈریس محفوظ رکھنے کے آپشن بھی۔ اس کا Privacy checkup اہم انتخاب ایک ہی جگہ دکھا دیتا ہے۔ انسٹاگرام پر اگر آپ کو عوامی سامعین کی ضرورت نہیں تو پرائیویٹ اکاؤنٹ پر غور کریں، اور دیکھیں کہ کون آپ کو ٹیگ یا مینشن کر سکتا ہے اور کیا آپ کا ایکٹیویٹی اسٹیٹس دکھایا جاتا ہے۔ فیس بک پر دیکھیں کہ آپ کی پوسٹس، فرینڈ لسٹ اور رابطے کی تفصیلات کون دیکھ سکتا ہے، اور پرانی پوسٹس کے سامعین محدود کرنے کے لیے پرائیویسی چیک اپ استعمال کریں۔

بڑی ایپ اپ ڈیٹس کے بعد ان سیٹنگز کو دوبارہ دیکھیں، کیونکہ نئے فیچرز کبھی کبھار کھلی ڈیفالٹ سیٹنگز کے ساتھ آتے ہیں۔

فشنگ اور جعلی سپورٹ کو پہچاننا سیکھیں

زیادہ تر اکاؤنٹس کسی تکنیکی حملے سے نہیں بلکہ ایک پیغام سے ہاتھ سے جاتے ہیں۔ عام جال یہ ہیں: کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر اکاؤنٹ ڈیلیٹ ہونے کی وارننگ، مفت پریمیم سبسکرپشن یا تحفہ، کسی مقابلے میں دوست کے لیے ووٹ کی درخواست، ویریفکیشن بیج کی پیشکش، یا نوکری اور سرمایہ کاری کا کوئی سنہری موقع۔ یہ سب آپ کو کسی لاگ اِن صفحے کی طرف دھکیلتے ہیں یا کوڈ مانگتے ہیں، اور عموماً ساتھ میں کوئی ڈیڈ لائن بھی لگا دیتے ہیں۔

کچھ بھی ٹائپ کرنے سے پہلے صفحے کا پورا پتہ دیکھیں۔ انسٹاگرام یا فیس بک کا اصل لاگ اِن برانڈ کے اپنے ڈومین پر ہوتا ہے، کسی ایسے ملتے جلتے پتے پر نہیں جس میں اضافی الفاظ، ڈیش یا ادل بدل کیے ہوئے حروف ہوں۔ اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ لنکس کے ذریعے لاگ اِن ہی نہ کریں: ایپ خود کھولیں اور دیکھیں کہ کیا واقعی کوئی نوٹس آپ کا منتظر ہے۔ انسٹاگرام اور فیس بک آپ کو بھیجی گئی حالیہ سیکیورٹی ای میلز کی فہرست بھی دکھا سکتے ہیں، عموماً Accounts Center کے سیکیورٹی والے حصے میں، جس سے یہ جانچنا آسان ہو جاتا ہے کہ ان کے نام سے آنے والا پیغام اصلی ہے یا نہیں۔

جعلی سپورٹ اکاؤنٹس بھی عام ہیں۔ آفیشل ٹیمیں خود سے ڈائریکٹ میسج کر کے پاس ورڈ، کوڈ یا اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے پیسے نہیں مانگتیں۔ اگر کوئی ایسا کرے تو اسے بلاک اور رپورٹ کریں۔

شیئر کرنے سے پہلے سوچیں

کچھ معلومات اکیلے بے ضرر ہوتی ہیں مگر دوسری معلومات کے ساتھ مل کر خطرناک بن جاتی ہیں۔ آپ کا فون نمبر، تاریخِ پیدائش، محلہ، دفتر، اور گھر والوں یا پالتو جانوروں کے نام بالکل وہی چیزیں ہیں جن سے حملہ آور پاس ورڈ کا اندازہ لگاتے، سیکیورٹی سوالات کے جواب دیتے اور قائل کر دینے والے فراڈ پیغامات لکھتے ہیں۔ ان دلچسپ کوئز سے ہوشیار رہیں جو آپ کا پہلا اسکول، پہلی گاڑی یا والدہ کا شادی سے پہلے کا نام پوچھتے ہیں۔

تصاویر آپ کے اندازے سے زیادہ کچھ ظاہر کر دیتی ہیں۔ پوسٹ کرنے سے پہلے پس منظر میں دستاویزات، اسکرینز، مکان نمبر، گاڑی کی نمبر پلیٹ یا بارکوڈ والے ٹکٹ دیکھ لیں۔ لوکیشن بھی تصویر کے ساتھ جا سکتی ہے: میسنجرز عموماً عام طریقے سے بھیجی گئی تصاویر سے لوکیشن کا ڈیٹا ہٹا دیتے ہیں، لیکن تصویر کو فائل کے طور پر بھیجنے سے اصل تفصیلات باقی رہ سکتی ہیں۔ لائیو لوکیشن صرف ان لوگوں کے ساتھ شیئر کریں جن پر بھروسہ ہو، اور صرف اتنی دیر جتنی ضرورت ہو۔

گروپ میں بھیجی گئی یا عوامی طور پر پوسٹ کی گئی ہر چیز آگے فارورڈ، اسکرین شاٹ اور محفوظ کی جا سکتی ہے۔ غائب ہونے والے پیغامات اور آٹو ڈیلیٹ ٹائمر پرانی گفتگو کو جمع ہونے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں، مگر کسی کو پیغام غائب ہونے سے پہلے کاپی کرنے سے نہیں روک سکتے۔

جو کھو نہیں سکتے اس کا بیک اپ رکھیں

ڈیٹا کی حفاظت کا مطلب اسے کھونے سے بچانا بھی ہے۔ واٹس ایپ چیٹس آپ کے فون پر رکھتا ہے اور اینڈرائیڈ پر گوگل ڈرائیو یا آئی فون پر iCloud میں ان کا بیک اپ لے سکتا ہے۔ اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ بیک اپ کا آپشن آن کریں تاکہ بیک اپ ایسے پاس ورڈ یا کی سے محفوظ ہو جو صرف آپ کے پاس ہو، اور اس کی کو کسی محفوظ جگہ رکھیں۔

ٹیلیگرام کی کلاؤڈ چیٹس ٹیلیگرام کے سرورز پر محفوظ رہتی ہیں اور آپ کی تمام ڈیوائسز پر سنک ہوتی ہیں، مگر سیکرٹ چیٹس صرف انہی ڈیوائسز پر موجود ہوتی ہیں جہاں وہ شروع کی گئیں، اور لاگ آؤٹ کے بعد بحال نہیں ہو سکتیں۔ اگر آپ آف لائن کاپی چاہتے ہیں تو Telegram Desktop آپ کی چیٹس اور میڈیا ایکسپورٹ کر سکتا ہے۔ انسٹاگرام اور فیس بک Accounts Center سے اپنی معلومات ڈاؤن لوڈ کرنے دیتے ہیں۔

ان ایکسپورٹس کو خود اکاؤنٹ جتنا ہی اہم سمجھیں۔ ان میں آپ کی نجی گفتگو اور تصاویر ہوتی ہیں، اس لیے انہیں انکرپٹڈ اسٹوریج میں رکھیں اور جن پرانی کاپیوں کی ضرورت نہ رہے انہیں ڈیلیٹ کر دیں۔

بار بار دہرانے کا ایک مختصر معمول

جب سب کچھ سیٹ ہو جائے تو ہر چند ماہ بعد ایک مختصر جائزہ اسے ایسے ہی برقرار رکھتا ہے۔ سیشنز اور لنکڈ ڈیوائسز چیک کریں، تصدیق کریں کہ ٹو اسٹیپ ویریفکیشن اب بھی آن ہے اور ریکوری ای میل اپ ٹو ڈیٹ ہے، اپ ڈیٹس کے بعد پرائیویسی سیٹنگز پر نظر ڈالیں، اور منسلک ایپس میں سے وہ تھرڈ پارٹی ایپس اور ویب سائٹس ہٹا دیں جو اب استعمال نہیں کرتے۔

اگر آپ کو ابھی ابھی کسی اور سے کوئی اکاؤنٹ ملا ہے، جیسے دفتر میں ذمہ داری کی منتقلی یا کسی مارکیٹ پلیس سے خریدا گیا اکاؤنٹ، تو استعمال سے پہلے پورا معمول مکمل کریں: اپنے پاس ورڈ اور ریکوری تفصیلات سیٹ کریں، ہر وہ سیشن ختم کریں جو آپ نے شروع نہیں کیا، اور طے کریں کہ کون کیا دیکھ سکتا ہے۔ جو بھی اکاؤنٹ حاصل کریں، اسے پلیٹ فارم کی شرائطِ استعمال کے مطابق استعمال کریں۔ صاف آغاز کرنا کسی مسئلے کے بعد صفائی کرنے سے کہیں آسان ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات: میسنجرز اور سوشل میڈیا میں اپنا ڈیٹا کیسے محفوظ رکھیں

مزید پڑھیں